چین، امریکہ، اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ کرپٹو کرنسی اقدام کیا! یہ ہیں تفصیلات

جیسے جیسے کرپٹو کرنسی کے گھوٹالے بڑھتے جارہے ہیں، دنیا کے کچھ سرکردہ ناموں کی جانب سے ایک مشترکہ کوشش سامنے آئی ہے۔
اس کے مطابق، امریکہ، متحدہ عرب امارات اور چین نے مشترکہ طور پر ایک آپریشن میں نو کریپٹو کرنسی فراڈ مراکز پر چھاپے مارے۔ امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے اعلان کیا کہ دبئی پولیس کی سربراہی میں ایک بین الاقوامی مشترکہ آپریشن نے کرپٹو کرنسی فراڈ کے کم از کم نو مراکز کو ختم کیا اور 276 افراد کو گرفتار کیا۔
اس آپریشن میں امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)، چین کی وزارت پبلک سیکیورٹی اور رائل تھائی پولیس شامل تھی۔ حراست میں لیے گئے افراد میں سے 275 دبئی میں تھے جبکہ ایک شخص کو رائل تھائی پولیس نے الگ سے حراست میں لیا تھا۔
چھ افراد کو امریکہ میں وفاقی فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو ہر الزام کے لیے 20 سال قید اور جرمانے کا خطرہ ہے۔
تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان جعلی کرپٹو کرنسی انویسٹمنٹ پلیٹ فارم چلاتے تھے، متاثرین کو دھوکہ دیتے ہوئے رقم کی سرمایہ کاری کرتے تھے۔ نقصانات کا تخمینہ کروڑوں ڈالر میں ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے قائم مقام اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اینڈریو ٹائسن ڈووا نے کہا کہ فراڈ ایک بین الاقوامی جرم ہے اور اس کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ اس آپریشن کے علاوہ یورپ میں بھی ایسے ہی آپریشن کیے گئے۔ یوروپول نے اطلاع دی ہے کہ آسٹریا اور البانوی حکام کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی تحقیقات میں البانیہ میں فراڈ کے تین مراکز بند کر دیے گئے اور 10 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
*یہ سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں ہے۔